ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل: کئی دکانوں پر میونسپالٹی حکام کا دھاوا؛ دکان مالکان کی سخت مزاحمت؛ کل جمعرات کو احتجاج کرنے کا منصوبہ

بھٹکل: کئی دکانوں پر میونسپالٹی حکام کا دھاوا؛ دکان مالکان کی سخت مزاحمت؛ کل جمعرات کو احتجاج کرنے کا منصوبہ

Wed, 16 Sep 2020 19:33:34    S.O. News Service

بھٹکل 16 ستمبر (ایس او نیوز)   بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر مسٹر بھرت کی قیادت میں  آج بدھ کو میونسپل حکام نے پولس کی مدد لے کر  بھٹکل اولڈ بس اسٹائنڈ کے قریب مین روڈ پر واقع کئی ایک دکانوں پر اچانک دھاوا بولا اور ٹریڈ لائسنس کی تجدید نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے بعض دکان والوں کو شٹر گرانے  اور  تالہ مارنے کے احکامات دیتے ہوئے چابیاں لیں۔ اس موقع پر جب بعض  دکانداروں نے سخت مزاحمت کرتے ہوئے آواز بلند کی تو  اسسٹنٹ کمشنر نے   میونسپل حکام کو چابیاں دکانداروں کوواپس دینے کے احکامات دئے اور  دکانوں پر دھاوے کی کاروائی کو وہیں پر روک کر واپس چلے گئے۔

اسسٹنٹ کمشنر سے واقعے کے تعلق سے پوچھے جانے پر مسٹربھرت نے بتایا کہ  کئی دکانداروں نے پچھلے  کئی سالوں سے  اپنی دکانوں کے لائسنس رینیو نہیں کرائے تھے  جس پر  اُن دکانوں کے نام تین تین نوٹسیں  جاری کی جاچکی ہیں ، مگر جب نوٹس کا کوئی جواب نہیں ملا  تو اُن دکانوں پر دھاوا بولا گیا اور انہیں بند کرایا، لیکن جب دکانداروں نے درخواست کی کہ  انہیں  رینیو کرانے کے لئے مہلت درکار ہے تو پھر ہم نے انہیں چابیاں واپس دیتے ہوئے  وارننگ دی کہ وہ جلد سے جلد لائسنس کو رینیو کرائے۔

بدھ شام کو جب اچانک اسسٹنٹ کمشنر بھرت،  میونسپل حکام اور پولس کے ساتھ بعض دکانوں پر پہنچے تو دکاندار پریشان ہوگئے، کئی دکانداروں نے بتایا کہ  کورونا لاک ڈاون کے چلتے وہ پہلے ہی پریشان ہیں اور گاہک بھی دکانوں میں نہیں آرہے ہیں، ایسے میں لائسنس رینیو نہ کرانے کی بات کہہ کر ان کی دکانوں کو بند کرایا گیا ہے۔ کئی دکانوں میں دکان مالکان نہیں تھے،  اس لئے انہیں دکان بند کرنے کہا گیا، بعض دکانداروں نے رسیدیں دکھائیں تو  اُن سے کہا گیا کہ وہ اپنے اصلی کاغذات لے کر میونسپالٹی دفتر آئیں۔

کافی دکانوں کا دورہ کرنے اور بعض دکانوں پر تالے لگانے کے بعد جب اے سی اور میونسپل حکام  سماجی کارکن عبدالسمیع  میڈیکل کی دکان پر پہنچے اور ان کی دکان بند کراتے ہوئے  چاوی حاصل کرنے کی کوشش کی تو عبدالسمیع   صاحب جائے وقوع پر پہنچ گئے اور آتے ہی انہوں نے  اسسٹنٹ کمشنر سے کہا کہ ان کے پاس دکانوں کو بند کرانے کے لئے سرکار کی طرف سے کوئی  نوٹی فیکیشن آیا ہوتو اُسے دکھائیں اور نوٹی فیکیشن شو کرنے کے بعد ہی دکانوں کو بند کرائیں۔ انہوں نے بتایا کہ  وہ گذشتہ سال مطلوبہ رقم میونسپالٹی میں بھرکر اپنی دکان کا لائسنس رینیو کراچکے ہیں اورصرف رواں سال کا رینیو کرانا باقی ہے، انہوں  نے اسسٹنٹ کمشنر سے سوال کیا کہ جب ان  کا لائسنس رینیو ہوچکا ہے تو پھر ان کی دکان کیوں بند کرائی گئی ؟  ان کے اُٹھائے گئے سوالات پر  اسسٹنٹ کمشنر  نے عبدالسمیع   صاحب کو جواب دیا  کہ وہ انہیں سرکار کی طرف سے جاری کئے گئے نوٹی فیکشن دکھائیں گے جس کے بعد  ہی وہ دکانوں کو بند کرنے کے احکامات دیں گے، انہوں نے عبدالسمیع صاحب کی درخواست پر میونسپل حکام کو  ہدایت دی کہ وہ  تمام دکانداروں کی چابیاں واپس کرے، یہ کہہ کر وہ   میونسپل حکام کو وہیں چھوڑ کر چلے گئے۔

اے سی کے واپس جاتے ہی   دکانداروں نے  میونسپل حکام سمیت پولس اہلکاروں کو آڑے ہاتھ لیا۔ دکانداروں کا سوال تھا کہ کورونا لاک ڈاون کی وجہ سے حکومت  کئی طرح کی چھوٹ دے رہی ہے تاکہ   لاک ڈاون سے ہوئے  نقصانات کی بھرپائی ہوسکے، مگر بھٹکل تعلقہ انتظامیہ غیر ضروری طور پر   مخصوص دکانداروں پر کاروائی کرتے ہوئے  انہیں بند کرانے کی مہم چلارہی ہے۔ دکانداروں نے پوچھا کہ کیا مرکزی حکومت یا ریاستی حکومت کی طرف سے  ایسا کوئی نوٹی فیکیشن جاری ہوا ہے جس میں کہا گیا ہو کہ  جن لوگوں  نے لائسنس رینیو نہیں کرایا ہے  ان کی دکانوں کو بند کرایا جائے ؟  انہوں نے پوچھا  کہ میونسپالٹی عمارت کے سامنے ہی کئی میونسپالٹی  کی ملکیت والے دکاندار  کئی سالوں سے دکان کا کرایہ نہیں بھر رہے ہیں، اُن  کی طرف سے لاکھوں روپیوں کا کرایہ آنا باقی ہے، مگر ہیلتھ آفسر  جس کے ذمہ کچھ اور ہی کام ہے،  اپنا  کام  چھوڑ کر دکانوں کے  رینیول  کے کاغذات دیکھنے نکلی ہے۔اور  ایک مخصوص فرقہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کررہی ہے۔  بعض دکانداروں نے بتایا کہ وہ کئی بار اپنی دکان کا لائسنس رینیو کرانے  میونسپل دفتر گئے تھے، مگر انہیں ہر بار کوئی نہ کوئی بہانہ بتاکر کل اور کل آنے کہا گیا، انہیں ایک بار کمپوٹر خراب ہونے کی بات کہی گئی تو کبھی آفسر ڈیوٹی پر نہ ہونے کی بات کہی گئی۔ ان دکانداروں نے بتایا کہ جب کورونا کو لے کر سرکاری دفاتر میں کام کاج ہی ٹھیک ڈھنگ سے نہیں ہورہا ہے تو پھر ان کا  دکانوں پر دھاوا بولنے کا کیا مطلب ہے ؟ بعض دکانداروں نے یہ بھی بتایاا کہ  ساگر روڈ اور بندر روڈ عیدگاہ کے عین باہر کئی لوگوں نے غیر قانونی باکڑے لگارکھے ہیں، اُن کے پاس نہ لائسنس ہے اور نہ ہی وہ کسی طرح کا ٹیکس بھررہےہیں مگر انہیں  نکال باہر  کرنے کے بجائے ہم لوگوں کی دکانیں بند کرنے کی کوشش کی جارہی  ہے اور ہمیں وارننگ دی جارہی ہے۔

پتہ چلا ہے کہ کل جمعرات کو بھٹکل کے کئی دکانداروں نے میونسپل دفتر پہنچ کر احتجاج کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ  اگر کسی نے اپنا لائسنس رینیو نہیں کرایا ہے تو اُن پر جرمانہ عائد کرنے  کا اختیار میونسپالٹی کو ہوتا ہے، مگر کسی دکان کو بند کرانے کا اختیار نہیں ہوتا۔ خبر ملی ہے کہ کل صبح گیارہ یا بارہ بجے کئی  دکاندار  میونسپالٹی پہنچ کر اپنا احتجاج درج کرائیں گے اور اے سی کے نام میمورنڈم بھی دیں گے۔ اس بات کی بھی خبر ملی ہے کہ آج کے واقعے کو لے کر بعض دکانداروں نے   قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کے   ذمہ داروں  سے بھی شکایت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ  وہ فوری تنظیم کی حمایت یافتہ کونسلروں کی میٹنگ طلب کرے اور  آج ہوئی کاروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے میونسپل حکام کے خلاف  مناسب کاروائی کرے۔


Share: